نئی دہلی 18 اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی): گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری معاملے میں قصور وار قرار دیئے گئے گیارہ مجرموں کی رہائی پر گجرات حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کر دیا ہے۔ جس کے ساتھ ہی یہ واضح ہوگیا ہے کہ گجرات کی بی جے پی حکومت کو ان مجرموں کی رہائی پر افسوس اور پشیمانی تو دور کی بات، حکومت نے اپنے فیصلے کا سینہ زوری کے انداز میں دفاع کیا ہے۔
گجرات حکومت نے اپنے حلف نامہ میں کہا کہ اسی سال مئی میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ان لوگوں کی رہائی کے لئے ۱۹۹۲ء میں بنائی گئی پرانی پالیسی نافذ کی جاسکتی ہے۔ اس پالیسی میں ۱۴ سال جیل میں گزارنے کے بعد عمر قید سے رہا کرنے کی سہولت ہے۔حکومت نے کہا کہ قید میں موجود تمام مجرموں کا رویہ اچھا تھا۔ جیل میں ان کے تعلق سے کوئی شکایت بھی نہیں ملی تھی ۔سبھی افراد ۱۴ سال سے بھی زیادہ مدت سے جیل میں تھے اور ان کی رہائی پر غور کرنا ضروری تھا۔ اس معاملے میں گجرات حکومت نے مرکزی وزارت داخلہ سے بھی اجازت لے لی تھی۔;مفاد عامہ کی عرضی داخل کرنے والوں پر گجرات حکومت نے سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں پی آئی ایل کا داخل ہونا قانون کا غلط استعمال ہے۔
کسی باہری شخص کو اس طرح کے مجرمانہ معاملے میں مداخلت کا حق قانون نہیں دیتا ہے۔سبھاشنی علی اور دوسرے عرضی دہندگان کا ان مجرموں کی رہائی سے کوئی بنیادی حق متاثر نہیں ہورہا ہے جس سے وہ پی آئی ایل داخل کر سکیں۔اس لئے ان سبھی کی عرضی خارج کی جائے۔ گجرات حکومت نے اپنے اوپر لگاۓ جار ہے اس طرح کے الزامات کو بھی غلط ٹھہرایا جس میں کہا جارہا ہے کہ بلقیس بانو کے قصورواروں کو آزادی کا امرت مہوتسو پروگرام کے تحت چھوڑا گیا ہے۔حکومت نے کہا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پوری قانونی کارروائی پر عمل کرتے ہوۓ رہائی عمل میں لائی گئی ہے۔حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ عرضی دہندگان سیاسی پارٹیوں سے جڑی ہوئی ہیں اور کسی بھی عرضی دہندہ کا اس معاملے سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔
اس معاملے میں سماعت کرتے ہوۓ جسٹس اجے رستو گی اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بینچ نے ہدایت دی کہ گجرات حکومت کے ذریعہ داخل جواب سبھی فریقوں کو دستیاب کرایا جاۓ۔ عرضی دہندگان کو گجرات حکومت کے ذریعہ داخل کردہ حلف نامہ پر اپنا جواب داخل کرنے کیلئے وقت بھی دیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عرضی میں گجرات حکومت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس پورے معاملے کی جانچ سی بی آئی کی نگرانی میں ہوئی تھی، اس لئے گجرات حکومت قصور واروں کو سزا میں چھوٹ دینے کا یکطرفہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔
گجرات حکومت کے حلف نامہ پر بینچ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ بینچ میں شامل جج جسٹس رستوگی نے کہا کہ ہمیں صبح اخبارات کے ذریعے معلوم ہوا کہ گجرات حکومت نے بھاری بھر کم حلف نامہ داخل کر دیا ہے جس میں سابقہ کیسیز کے کئی حوالے دیئے گئے ہیں لیکن ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ حلف نامہ میں دماغ کا استعمال کیا گیا ہے یا نہیں کیوں کہ ہمیں تو اب تک ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ جسٹس رستوگی نے ان حوالوں پر بھی برہمی ظاہر کی اور کہا کہ حکومت گجرات کو اتنے حوالے دینے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا وہ بینچ کے صبر کا امتحان لینا چاہتے ہیں یا پھر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں بھی قانون معلوم ہے۔اتنے کیسیز کے حوالوں کی وجہ سے ہم اب تک حلف نامہ پوری نہیں پڑھ سکے۔ بینچ نے اس معاملے میں مخالف فریقوں کو جواب دینے کے لئے وقت دیتے ہوۓ اگلی سماعت ۲۹ نومبر کومقرر کر دی۔
واضح رہے کہ گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو پر ۲۰؍ سے زائد فسادیوں نے حملہ کیا تھا۔ اس دوران حاملہ بلقیس بانوسمیت کچھ دیگر خواتین کی عصمت دری کی گئی تھی اور ۲۰۰۸ء میں ان مجرموں کو سزاسنائی گئی تھی۔
راہل گاندھی کا ردعمل
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بلقیس بانو کیس میں گجرات حکومت کے حلف نامہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے سے واضح ہوتا ہے کہ وزیر اعظم مودی کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لال قلعہ کی فصیل سے خواتین کے تحفظ کی بات کر نامحض ایک ڈھونگ ہے کیوں کہ اصل میں وہ عصمت دری کے مجرموں کا دفاع کر رہے ہیں ۔ان کے قول وفعل میں ایک اور تضاد کھل کر سامنے آگیا ہے۔